مبعوث

( مَبْعُوث )
{ مَب + عُوث }
( عربی )

تفصیلات


بعث  مَبْعُوث

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٧٨٢ء کو "دیوانِ محبت" میں قلمی نسخہ میں مستعمل ملتا ہے۔

صفت ذاتی ( واحد )
جمع   : مَبْعُوثِین [مَب + عُو + ثِین]
١ - اٹھایا ہوا، بھیجا ہوا؛ مراد؛ نبوت یا رسالت کے لیے بھیجا یا مقرر کیا ہوا۔
"آپۖ کی دعوت و پیام کیا تھا، آپۖ کس مقصد سے مبعوث کیے گئے تھے، شاعر نے اس کی جابجا تصیل بیان کی ہے۔"      ( ١٩٩٣ء، زمزمۂ سلام، ١٩ )
٢ - [ جدید ]  نمائندہ، ممبر پارلیمنٹ۔
"دارالعوام کے مبعوثین کی تعداد ٧٠٧ ہے . ہر مبعوث کو چار سو پونڈ سالانہ ملنے کا قانون نافذ ہو گیا ہے۔"      ( ١٩٢٤ء، جغرافیۂ عالم (ترجمہ)، ٩٢:١ )
٣ - (مرنے کے بعد قیامت میں) دوبارہ زندہ کیا ہوا، مردے سے زندہ کیا ہوا۔
 عشاق کے زمرے میں مبعوث ہو تو یارب آغاز سے بہتر ہو انجام محبت کا      ( ١٧٨٢ء، دیوانِ محبت (قلمی نسخہ)، ٢٠ )