تھانا

( تھانا )
{ تھا + نا }
( سنسکرت )

تفصیلات


سنسکرت زبان سے ماخوذ کلمہ ہے جو اردو میں اپنے اصل معنی اور معرفہ شکل کے ساخت بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔

اسم ظرف مکان ( مذکر - واحد )
واحد غیر ندائی   : تھانے [تھا + نے]
جمع   : تھانے [تھا + نے]
جمع غیر ندائی   : تھاوں [تھا + نوں (و مجہول)]
١ - وہ جگہ جہاں ضلع کے کسی مقررہ علاقے کی نگرانی کے لئے تھانے دار اور پولیس کے سیاہی رہتے ہیں۔ بڑے شہروں یا علاقے کا تھانہ کوتوالی کہلاتا ہے۔
 کلکٹر مہرباں تھانے میں عزت شہر میں وقعت یقینی ہے ترا زاہد ولی باخدا ہونا      ( ١٩٤٢ء، سنگ و خشت، ٩ )
٢ - چھاؤنی کی لائن کی اندرونی جگہ (جامع اللغات)۔
٣ - جگہ، ٹھکانہ، جائے قیام، گاؤں میں زمیندار کا مکان۔
"میرا نام انتظار ہے، عاشق مجھ سے بیزار ہے، حسبِ ارشاد حسن ماہ سیما یہاں میرا تھانہ ہے۔"      ( ١٨٥٧ء، گلزار سرور، ٤٩ )
٤ - بانسوں کا ڈھیر (فرہنگِ آصفہ)
  • A subordinate police station;  a station;  a guard;  the inside of the lines of an army;  a heap or stack of bamboos