مصادر

( مَصادِر )
{ مَصا + دِر }
( عربی )

تفصیلات


صدر  مَصْدَر  مَصادِر

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٩٧ء کو"یادگار غالب" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مذکر - جمع )
واحد   : مَصْدَر [مَص + دَر]
١ - صادر ہونے کی جگہیں، نکلنے کی جگہیں، نکلنے کے مقامات،ذرائع، اسباب، بنیادیں، جڑیں۔
"ادب کی ریسرچ تاریخی ہوتی ہے اس کے لیے وسائل جداگانہ ہوں گے اور مصادر بھی جداگانہ ہوں گے۔"      ( ١٩٩٣ء، اردونامہ، لاہور، اپریل، ٢٦ )
٢ - [ قواعد ]  وہ کلمے جن سے مختلف افعال اور الفاظ نکلتے ہیں اور جو کسی کام کے وقوع کو بے قید زمان ظاہر کرتے ہیں۔
"مخطوطے میں مصادر کی ترتیب غیر لغوی ہے۔"      ( ١٩٨٩ء، قواعد صرف و نحو زبان اردو، ٢٠ )
٣ - [ اصطلاح تحقیق ]  کتب حوالہ اور مآخذ۔
"راقم الحروف نے اپنے زیرنظر مضمون میں مصادر و مآخذ کا ذکر قدرے تفصیل سے عمداً کیا ہے تاکہ ادبی تنقید کے سنیدہ طالب علم کو معلوم ہو کہ اسلوبیاتی مباحث کا دائرہ کتنا وسیع ہے۔"      ( ١٩٨٩ء، نگار، کراچی، نومبر، ٤٤ )
  • sources;  (in Gram.) infinitive nouns