کیا

( کَیا )
{ کَیا }
( پراکرت )

تفصیلات


پراکرت زبان سے ماخوذ ہے۔ اردو عربی رسم الخط کے ساتھ بطور حرف استفہام استعمال ہوتاہے۔١٥٦٤ء کو 'دیوان حسن شوقی" میں مستعمل ملتاہے۔

حرف استفہام
١ - (استفسار امر کے لئے) آیا ،چہ
 کیا کر گیا ایک جلوہ مستانہ کسی کا رکتا نہیں زنجیر سے دیوانہ کسی کا      ( ١٩٣٤ء شعلۂ طور، ١٢ )
٢ - استفسار شے کے لیے، حقیقت جاننے کے لیے) حقیقت کیاہے، ماہیت یا حیثیت کیاہے۔
 باندھی نیت رات تو دل بول اٹھا بال بچے صبح کو کھائیں گے کیا      ( ١٩٣٠ء، اردو گلستان (ترجمہ)، ٩٣ )
٣ - کون سا، کون سی۔
 اٹھانے کو رکھا ہے لاشہ کسی کا یہ کیا وقت ہے آئنے آرسی کا      ( ١٨٨٨ء، صنم خانہ عشق، ٥٦ )
٤ - کیسا، کس طرح کا، کس نوعیت کا۔
 یہ کیا خیال خام کہ ہم سا حسین نہیں دنیا میں سینکڑوں ہیں فقط ایک تمہیں نہیں      ( ١٨٩٦ء، احسن الکلام، ١١٤ )
٥ - کس قدر، کتنا۔
 دم آخر وہ چلے آتے تو احسان ہوتا مشکل نزع کا کیا مرحلہ آساں ہوتا      ( ١٩٠٣ء، نظم نگاریں، ١٩ )
٦ - کچھ کا کچھ، جدا، الگ، مختلف
 شوخی،ادا، حجاب، تجاہل، دغا، فریب، سب کچھ ہے ایک کیا میں ستم کپش کیا نہیں      ( ١٩١٩ء، درشہوار بیخود، ٤٨ )
٧ - نہ صرف، نہ فقط، نہ محض
'اول الذکر شریف اور آخر الذکر پولیٹیکل اور ترکوں کا کیا بلکہ مسلمانوں کا سخت دشمن ہے"      ( ١٩٢٠ء، برید فرنگ، ٢٤ )
٨ - (زور بیان کے لئے یا کسی عجیب بات کے اظہار کے لئے) بیانیہ کلمہ۔
"گھوڑا کیا ہے بجلی ہے"      ( ١٩٧٣ء، جامع القواعد، ڈاکٹر غلام مصطفیٰ، ٣٦ )
٩ - کیوں، کسی لیے، کس واسطے
 اتار لی سر بازار جس نے رخ سے نقاب حجاب آئے اسے سو میں کیا ہزار میں کیا      ( ١٩٣٢ء، ریاض رضوان، ٥٤ )
١٠ - (اظہار کثرت یا شدت کے لیے) کس قدر، کتنا، بہت زیادہ، زیادہ سے زیادہ۔
" کچھ نہ پوچھو کہ ان انقلابات میں کیا کچھ جاتا رہا"      ( ١٩٩٢ء، افکار، کراچی، اپریل ٢٦ )
١١ - (اظہار عظمت کے لیے) تعریف کے قابل۔
 جانتے ہیں تمہارے شیدائی تم نہیں جانتے کہ کیا ہو تم      ( ١٩٩٥ء، جان سخن، ٨٤ )
١٢ - (تحسین و آفرین کے لیے) خوب، عمدہ، بہت اچھا۔
 چومیے کیوں نہ اس کے ہاتھوں کو کیا مٹاتا ہے کیا بناتا ہے      ( ١٩٨٨ء، آنگن میں سمندر، ٧٧ )
١٣ - (اظہار محبت قلت کے لیے)معمولی، خفیف، تھوڑی سی، کم۔
"اس کی آمدنی کیا، زیادہ سے زیادہ پچاس ساٹھ روپیہ ماہوار"      ( ١٩٤٣ء، دلی کی چند عجیب ہستیاں، )
١٤ - کیوں کر، کیسے، کس طرح۔
 سن اے غارت گر جسن وفا سن شکست قسمت دل کی صدا کیا      ( ١٨٦٩ء، دیوان غالب، ١٥٧ )
١٥ - بہت کچھ، سب کچھ
"اگر اس کو ذرا بھی شبہ ہو جائے تو پھر وہ کس قدر بگڑے گا، لوگوں سے کیا کیا کہے گا"      ( ١٩٦٩ء، افسانہ کر دیا، ٢٢٩ )
١٦ - (اظہار نفی کے لیے) نہیں، کبھی نہیں۔
 وہ لچا ہے، کیا اس کی اوقات ہے کمینہ ہے، یا جی ہے بدذات ہے      ( ١٩١٠ء قاسم اور زہرہ، ٧ )
١٧ - بے حقیقت، کچھ نہیں۔
"ان کا کیا ہے وہ تو ہیں ہی جنگلی، وحشی، بن مانس لوگ"      ( ١٩٥٦ء، آگ کا دریا، ٧٦٥ )
١٨ - بے اعتباری اور بے وقعتی کے لیے۔
رنج کیا رنج کہ جس کی نہیں کچھ اصل و نمود شکوہ کیا شکوہ کہ جس کی کوئی بنیاد نہ ہو۔      ( ١٩١١ء دیوان ظہیر دہلوی، ١١١:٢ )
١٩ - عرض، مطلب، حاصل
 ہمیں کیا جو پھرتے ہو تم عرش پر کبھی جلوہ گر بام پر بھی تو ہو      ( ١٩٣٢ء، بے نظیر، کلام بے نظیر، ١٤٤ )
٢٠ - (تنفر، بے زاری یا لاتعلقی کا اظہار کرنا) مضائقہ نہیں، پروا نہیں۔
"ہزاروں ملیچھ ( مسلمان) مارے جائیں مجھے کیا! ہاں روز ایک کنور کو گدی پر بٹھائیں"      ( ١٩٣٩ء، افسانۂ پدمنی، ١١٧ )
٢١ - (کسی بات کے انحصار کے لیے) جیسے ہی، جونہی، چونکہ۔
 بسنت رت کیا جہاں میں آئی پیام دور بہار آیا نظر ہے مست شراب، جلوہ کہ روئے گل پر نکھار آیا      ( ١٩٢٦ء، مطلع انوار، ٣١ )
٢٢ - خواہ، چاہے۔
 شغل بہتر ہے عشق بازی کا کیا حقیقی و کیا مجازی کا      ( ١٧٠٧ء کلیات ولی، ٢٨ )