فعل متعدی
١ - قائم رکھنا، باقی رکھنا، جاری رکھنا۔
"انہوں نے پہلی ملاقات کی بے تکلفی اور خلوص کو آخر دم تک نباہا"
( ١٩٩٠ء قومی زبان، کراچی، مارچ، ١٠ )
٢ - پیشِ نظر رکھنا، ملحوظ رکھنا، پاسداری کرنا، عملی اظہار کرنا۔
"زمین اور اس کے رشتوں کو انہوں نے جس طرح چاہا اور نباہا ہے وہ ایک ایک سطر سے جھلکتا ہے"
( ١٩٨٥ء، انشائیہ اردو ادب میں، ٢٣٢ )
٣ - سہارا دینا، سنبھالنا۔
مجھ سے وا ماندوں کو اللہ نباہے تو نبھیں تن سویہ خستہ و درپیش اتنے
( ١٧٩٥ء، قائم، دیوان، ١٤٣۔ )
٤ - ادا کرنا، چُکانا۔
"چکبست کا خیال صحیح ہے کہ متناسب الفاظ کا لطافت کے ساتھ نباہنا دشوار ہے"
( ١٩٨٩ء، نگار، کراچی، دسمبر، ١٤٨ )
٥ - پورا کرنا، ایفا کرنا، تکمیل تک پہنچانا۔
"شاعری صرف پابندیوں کا نام نہیں ہے، یا پابندیوں کو نباہنا ہی شاعری نہیں ہے"
( ١٩٨٨ء، قومی زبان، کراچی، جولائی، ٤٤۔ )
٦ - گزارنا، کاٹنا، انجام کو پہنچانا، مکمل کرنا۔
"طویل قطعے کو نباہنا کوئی آسان کام نہیں"
( ١٩٧٦ء، سخن ور (نئے اور پرانے)، ٩٧۔ )
٧ - ساتھ دینا، رفاقت کرنا، دوستی رکھنا۔
"دوستی کا نباہنا بھی ایک مشکل کام ہے"
( ١٩١٧ء، رسائل کے دفینوں سے اردو ادب کی بازیافت الصعر، ٣٥٥:٢ )
٨ - گزر کرنا، وقت کاٹنا، بسراوقات کرنا؛ (عموماً) جوں توں گزارا کرنا۔
تم کب یہ فریب کھا سکو گے ہم نے تو نباہی سادگی میں
( ١٩٦١ء، قلب و نظر کے سلسلے، ٣٠٨ )
٩ - اٹھنا، برداشت کرنا، سہنا۔
مرنے دو مرنے والوں کو، غم کا شوق فروزاں کیوں ہے کس نے اپنا حال سنا ہے ہم ہی کس کا درد نباہیں
( ١٩٨٣ء، بسروساماں، ٢٧۔ )
١٠ - ایمان رکھنا، بروئے کار لانا، برتنا۔ (فیلن)