فعل متعدی
١ - اجزا کو باہم مخلوط یا مربوط کرنا، مخلوط کرنا، آمیرکرنا، ترکیب دینا، گڈ مڈ کرنا۔
جو باقی مے تھی اس کی زندگی کے آبگینے میں وہ مے اس نے ملا دی موت کے ٹھنڈے پسینے میں
( ١٩٨٨ء، برگد، ٢٨٣ )
٢ - فرق یا امتیاز کرنا، موازنہ کرنا، مقابلہ کرنا، تغاوت معلوم کرنا۔
سورج سے ملاتے کبھی ہم چاند سے اس کی ملتا جو کہیں جلوہ رخسار محمدۖ
( ١٩١٠ء، دیوان خوبی سخن )
٣ - ملاوٹ کرنا، آمیزش کرنا(کوئی نقصان دہ چیز)
مجھ تک کب ان کی بزم میں آتا تھا دور جام ساقی نے کچھ ملا نہ دیا ہو شراب میں
( ١٨٦٩ء، دیوان غالب، ٩٩ )
٤ - تطابق کرنا، پڑتال کرنا، جانچنا( مناسب یا مشابہت کے لیے)
"کاپی منگوائی، کپڑے کھولے اور ملانے شروع کیے"۔
( ١٩٠٨ء، صبح زندگی، ١٥٥ )
٥ - مشابہت یا یکسانیت پیدا کر دینا، نقل کو ایسا بنا دینا کہ اصل سے مشابہ یا بالکل ویسی ہو جائے، مثل بنانا، تشبیہہ دینا۔
"خود اپنی مشق بہم پہنچائی کہ میر عماد کے کتبوں میں خط ملا دیا"۔
( ١٩٢٩ء، تذکرہ کاملان رام پور، ٢١ )
٦ - ہم مرتبہ قرار دینا، برابر یا ہمسر بنانا، برابری کا درجہ دینا۔
تعریف میں چشمے کو سمندر سے ملادوں قطرے کو جو دوں آپ تو گوہر سے ملا دوں
( ١٨٧٤ء، انیس مراثی، ١٠٢ )
٧ - ایک چیز کو دوسری سے متصل کرنا، جوڑنا، منسلک کرنا۔
"یہ پسٹن ایک ملانے والی سلاخ کے ذریعے ایک کرینک کے ساتھ ملا ہوتا ہے"۔
( ١٩٦٦ء، حرارت، ٦٠٠ )
٨ - ملاپ کرنا، جھگڑا چکا کے اتحاد کرانا، اختلافات دور کرانا، گلے ملوانا۔
"لوگ مجھے صرف اس بات سے یاد رکھیں کہ میں نے اپنی ساری عمر اور محنت ہندو مسلمانوں کے ملانے میں صرف کر دی"
( ١٩٣٨ء، خطبات عبد الحق، ١٤٥ )
٩ - ملاقات کرانا، واقفیت یا شفاسائی کرانا، متعارف کرانا۔
جو مجھ میں چھپا بیٹھا ہے میں تم سے ملانے لایا ہوں
( ١٩٨٩ء، گھنگھرو، ٣١ )
١٠ - وصال کرانا، ارتباط پیدا کرنا۔
اوس پری وش سے ملا دو مجھے اے حضرت شیخ آپ تو حور کو انسان سے ملا دیتے ہیں
( ١٨٩٩ء، دیوان ظہیر، ١٦٢:١ )
١١ - مرد کو عورت سے یا عورت کو مرد سے واقف کرانا، آشنائی کرانا۔
کوشش کرو کہ مرزا سے بیگم کا ہو ملاپ گوئپاں ملانا ہجرزدوں کا ثواب ہے
( ١٩٢١ء، دیوان ریختی، ٧٤ )
١٢ - اختلاط کرانا، جفتی کرانا
"بھیڑیے اور لومڑی سے پلا ہوا کتا اور کتیا کو ملا کر بچے پیا کیے گئے"
( ١٩٣٢ء، قطب یار جنگ، شکار، ٣٨٤:٢ )
١٣ - رسائی کرانا، پہنچانا۔
چشم حق ہیں سے حسینوں کو نظر کر زاہد پر وہ بندے ہیں خدا سے جو ملا دیتے ہیں
( ١٨٩٩ء، دیوان ظہیر، ١٢٧:١ )
١٤ - شامل کرنا، ملحق کرنا، شریک کرنا، نتھی کرنا، منسلک کرنا، جیسے: کاغذ مسل میں لگانا۔
"کسی دوسرے کو اس کی عبادت میں مت ملا"۔
( ١٨٧٦ء، مضامین تہذیب الاخلاق، ١٦٨:٢ )
١٥ - نتیجہ نکالنے کے لیے دو امور یا اشیا کو بیک وقت ذہن میں یا پیش نظر رکھنا۔
"بولی چپ رہو حاسد کہدیں کہ یہ بھی اونٹ کا بچہ ہے تو کون اس سے ملائے گا"۔
( ١٩٣٠ء، گلستان، ٤٧ )
١٦ - ہمنوا، ہم خیال یا ہم راز بنانا، سانٹنا۔
"چنانچہ اس نے مرہٹوں کو ملا کر حیدر علی کی طاقت کو ختم کرنا چاہا"
( ١٩٧٥ء، آزادی کے مجاہد، ٦:٢ )
١٧ - وصل کرنا، جوڑنا، چپکانا، چسپاں کرنا۔
"قطع کرتے ہیں اس چیز کو جس کو اللہ نے فرمایا ملانے کو"
( ١٩١٧ء، ترجمۂ قرآن، مولانا محمود الحسن، ٧٠ )
١٨ - ایک گھڑی کا وقت دوسری صحیح گھڑی کے مطابق کرنا۔
وعدہ وہ کر گئے ہیں شب کو ملیں گے آ کر دل کی تسکین کو گھڑی ہم نے ملا رکھی ہے
( ١٩٠٧ء، انتخاب گرامی، کمال ١٦٢ )
١٩ - سازوں کو ہم آواز کرنا، آس لگانے کی آواز کو اصل گانے والے کی آواز سے ہم آہنگ بنانا۔
"اس کے بعد دونوں سارنگی نواز اپنی اپنی سارنگیاں ملانے لگتے"
( ١٩٦٢ء، ساقی، کراچی، جولائی ٥٥ )