فعل لازم
١ - شامل ہونا، شریک ہونا، ضم ہونا
"اپنی حکومت چھوڑ کر دلی کی رعیت میں کیوں مل گئے"۔
( ١٨٦٧ء، خطوط غالب، ٥٦ )
٢ - ملاقات کرنا، میل جول رکھنا۔
نہ اس کو صبر نہ تاثیر کا پتا یا رب جلا دیا ہے مجھے خاک میں پہ آہ ملے
( ١٨٧٨ء، گلزار داغ، ٢٤٦ )
٣ - حاصل ہونا، دستیاب ہونا، ہاتھ میں آنا، پلے پڑنا، بہم پہنچنا، مسیر آنا، ہتھے چڑھنا۔
"آباد کاری کے لیے ملنے والی زمین کی حدود متعین اور مقرر ہوئی تھیں"۔
( ١٩٩٥ء، اردو نامہ، اپریل، لاہور، ٣٢ )
٤ - فائدہ پہنچنا، نفع ہونا۔
مکتب عشق کی تعلیم نہ پوچھو تسلیم جو ملا مجکو محبت کے ادیبوں سے ملا
( ١٩٠٧ء، دیوان تسلیم، ٥٩ )
٥ - کھوج لگنا، پتا چلنا، دریافت ہونا، سمجھ میں آنا، معلوم ہونا، پایا جانا۔
"اگر ہم اس یقین سے ابتداء کرتے ہیں کہ خیر کی تعریف مل سکتی ہے تو . وہ اشیا کے کسی ایک خاصے کا نام ہے اور کچھ تعریف نہیں ہو سکتی"۔
( ١٩٦٣ء، اصول اخلاقیات(ترجمہ) ،٥٧ )
٦ - موقع بہم پہنچا، مہلت ہونا۔
اول تو ترے کوچے میں آنا نہیں ملتا آویں تو کہیں تیر ٹھکانا نہیں ملتا
( ١٨٦٤ء، مصحفی(نوراللغات) )
٧ - ہم شکل ہونا، شباہت پائی جانا، مشابہ ہونا۔
فیس ملتا نہیں ہم چاک گریبانوں میں جھک ہے کچا سا سٹری ہے ترے دیوانوں میں
( ١٨٥٤ء، صبا(نوراللغات) )
٨ - حیا جانا عطا کرنا، عنایت ہونا۔
"آباد کاری کے لیے ملنے والی زمین کی حدود متعین اور مقرر ہوتی تھیں"
( ١٩٩٥ء، اردو نامہ، اپریل، لاہور، ٣٢ )
٩ - مجتمع ہونا، اکٹھا ہونا۔
ایک اور ایک جو ملتا ہے تو بن جاتے ہیں گیارہ نفرت کا ہر منصوبہ کر دیں گے پارہ پارہ
( ١٩٩١ء، سحر گزیدہ، ١٣٥ )
١٠ - ٹکرانا، ٹکرائو ہونا۔
آنکھ ملتے ہی دل دھڑکتا ہے یہ وبا عام ہی نہی ہو جائے
( ١٩٥٧ء، مجید لاہوری، نمک دان، ٢١٤ )
١١ - گلے لگنا معانقہ کرنا، بغل گیر ہونا۔
کھینچ کے ملتی ہے گلے سے جوکبھی ملتی ہے تم سے تلوار نے سیکھے ہیں تمہارے انداز
( ١٨٩٥ء، دیوان راسخ دہلوی، ١١٢ )
١٢ - دکھائی دینا، نطر آنا۔
بہت دشوار ہے دل بستگی زلف متعبر سے شب قدر اے دل بیتاب ملتی ہے مقدر سے
( ١٨٧٠ء، شرف(نوراللغات) )
١٣ - صلع صفائی ہونا، رنجش دور کرنا۔
"اتنے میں دونوں کو گلبدن نے اٹھایا اور کہا اب مل جائو بس لڑائی ہو چکی اب کیا کٹ ہی مرو گے"
( ١٨٨٠ء، فسانہ آزاد، ١٩٢:١ )
١٤ - سازوں کا آپس میں ہم آواز ہونا۔
الگ رہتا ہوں طنبورے کے تاروں کی طرح سب سے ذرا چھیڑے سے ملتا ہوں ملاے جس کا جی چاہے
( ١٩٢٦ء، شاد(نوراللغات) )
١٥ - ملاقات کرنا، کسی سے تعارف یا رسم و راہ پیدا کرنا۔
"کبھی یہاں ہم لوگوں سے ملنے کا اتفاق نہ ہوا"
( ١٩٩٠ء، چاندنی بیگم، ٤٠٠ )
١٦ - سازش کرنا، ساز باز کھنا، ملی بھگت کرنا۔
طبیعت پہ رہتا تھا کچھ اختیار یہ ظالم بھی جا کر ادھر مل گئی
( ١٩٣٢ء، بے نظیر شاہ، کلام بے نظیر، ١٨٩ )
١٧ - مس کرنا، چھونا، ہم آغوش ہونا۔
"بغیر اس کے قبر اطہر امام حسین علیہ السلام سے مل کر بہت روئیں"۔
( ١٨٨٧ء، نہر المصائب، ٣، ٥، ٥٣١ )
١٨ - ملاقات، راہ و رسم۔
"ایک صاحب نے کہا بہت دنوں سے تمہارا ان سے ملنا نہیں ہوا"۔
( ١٩٣٠ء، اردو گلستان، ٩١ )
١٩ - میل جول، ربط ضبط، دوستی
غیر سے ملنے کی لکھی ہے نہایت تاکید اور لکھتا ہے مجھے خط میں جوالا اپنا
( ١٨٩٢ء، مہتاب داغ، ٤٧ )