مؤنث

( مُؤنَّث )
{ مُو + اَن + نَث }
( عربی )

تفصیلات


انث  مُؤنَّث

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم مفعول ہے جو اردو میں اپنے اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور صفت استعمال ہوتا ہے تحریراً سب سے پہلے ١٦٧٩ء کو "دیوان شاہ سلطان ثانی" میں مستعمل ملتا ہے۔

صفت ذاتی
١ - مادہ نیز عورت، زن، استری، زنانہ۔
 دنیا کے ہیں طالب مخنث کتے ہیں جنت کے طالب مؤنث کتے      ( ١٦٨٥ء، معظم بیجا پوری، گنج مخفی (قدیم اردو، ٢٦٧:١) )
٢ - [ قواعد ]  جو تانِیث ہو، تانیث، مادہ جنس (نر کی ضد)۔
"برگد کو ماں کی علامت قرار دینا اس لحاظ سے معنی خیز بھی ہے کہ ماں مؤنث ہے جبکہ برگد کا پیڑ مذکر۔"      ( ١٩٨٣ء، تخلیق اور لاشعوری محرکات، ١٢٩ )
٣ - زنانہ، عورت کا سا مادہ (فرہنگِ آصفیہ؛ نور اللغات)