باد خزاں

( بادِ خَزاں )
{ با + دے + خَزاں }
( فارسی )

تفصیلات


فارسی زبان سے ماخوذ اسما 'باد' اور 'خزاں' کے درمیان علامت اضافت 'کسرہ' لگنے سے مرکب اضافی 'باد خزاں' بنا۔ اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٧٣٩ء میں 'کلیات سراج" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مؤنث - واحد )
١ - وہ گرم ہوا جس کے چلنے سے پت جھڑ کا موسم آ جاتا ہے۔
 وہ مستیاں وہ فلک پر دماغ پھولوں کے نہ گل ہوں باد خزاں سے چراغ پھولوں کے      ( ١٩١٢ء، شمیم، ریاض شمیم، ١٧:٥ )