اسم نکرہ ( مؤنث - واحد )
١ - خدا کی بڑائی کا بیان کرنا؛ اللہ اکبر کہنا۔
"انہوں نے جگہ بتا دی آپ نے تکبیر کہہ کر دو رکعت نماز ادا کی۔"
( ١٩١٤ء، سیرۃ النبیۖ، ٢٩٣:٢ )
٢ - اذان، نماز کا وقت ہو جانے پر نمازیوں کو آگاہ کرنے یا مسلمانوں کو نماز کے لیے مسجد میں بلانے کے مقررہ کلمات جو مؤذّن باآوازِبلند مقرر طریق سے ادا کرتا ہے، بانگ نماز گاہے یہ کلمات نومود کے دائیں کان میں اور کبھی آفات ارضی یا سماوی کے دفعیے کے لیے بھی مقرر طریق سے کہے جاتے ہیں۔ امامت یعنی وہ کلمات جو ائمہ اربعہ کے نزدیک باجماعت نماز کے لیے اور فقہ جعفریہ میں ہر نماز کے لیے کھڑے ہوتے وقت پکار کر ادا کئے جاتے ہیں۔
"مُکّبر پر تکبیر ہوئی اور سب نمازیوں نے صفیں درست کیں۔"
( ١٨٨٥ء، بزمِ آخر، ٧١ )
٣ - بڑائی، طاقت، اضافہ، بڑھوتری۔
"مندرجہ بالا دہانوں اور چشموں کے مجموعوں سے عام طور پر ایسی تکبیر حاصل ہو جائے گی جسکی قوت ٤٠ سے ٤٠ قطر تک ہوگی۔"
( ١٩٣١ء، نسیجیات، ٢٦:١ )
٤ - [ قواعد ] وہ کلمہ جس میں بڑائی کے معنی نکلتے ہوں۔
"تصغیر و تکبیر کا امتیاز انہیں علامتوں سے کیا جاتا ہے۔"
( ١٩١٤ء، اردو قواعد، ٦٠ )
٥ - بڑا ہونے یا ظاہر کرنے کی حالت و کیفیت، چوڑا چکلاپن۔
"استوائی (دور بین) کے ذریعہ اس کی بہت زیادہ تکبیر کی بدولت ہم چاند سیاروں اور دیگر اجرام فلکی کی سطح کا بہترین مشاہدہ کر سکتے ہیں۔"
( ١٨٩٤ء، علم ہیئت، ٤٩ )
٦ - بڑائی کا عمل، بڑا پن، بڑھت (کسی چیز کا ظاہری جسامت کو آلات کے ذریعے بڑھانا)۔
"ایسے بصری بیرم سے جو تکبیر (Magnification) حاصل ہوتی ہے وہ تقریباً غیرمحدود ہوتی ہے۔"
( ١٩٤١ء، تجزلی فعلیات، ٨٦ )