اشراق

( اِشْراق )
{ اِش + راق }
( عربی )

تفصیلات


شرق  اِشْراق

عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مزید فیہ کے باب افعال سے مصدر اور اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٧٩٩ء کو 'تجلیات ستہ نوریہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم کیفیت ( مذکر - واحد )
١ - طلوع، روشنی کا پھیلنا، سورج کی شعاعوں کا نکلنا۔
 اس کی نگہ شوخ پہ ہوتی ہے نمودار ہر ذرہ میں پوشیدہ ہے جو قوت اشراق    ( ١٩٣٦ء، ضرب کلیم، ٧٣ )
٢ - تابانی، چمکنا۔
'بیان روشنی اور اشراق و لمعان روے مبارک کا۔"    ( ١٨٥١ء، ترجمۂ عجائب القصص، ٢ :٩١ )
٣ - طلوع آفتاب سے تمازت تک کا وقت؛ وہ نماز جو سوا نیزے سورج چڑھنے پر پڑھی جاتی ہے۔ (اسلامی انسائیکلوپیڈیا)
'اشراق کے وقت جب خوب دھوپ چڑھ گئ تو روز بے - جاگا۔"      ( آفت کا ٹکڑا۔ فضل الرحمن، ٢١٠ جاگا۔ )
٤ - صفائے باطن کی وجہ سے روشن ضمیری؛ کشف، الہام۔
'وہ بھکوے ہیں جو غاروں میں بیٹھ کر اشراق اور جس دم کے سوانگ بھرتے ہیں۔"      ( ١٩٢٢ء، گوشۂ عافیت، ٢١٢:١ )
٥ - بغیر کسی خارجی ذریعہ کے ایک دل یا جذبے کا اثر دوسرے پر پڑنا یا ڈالنا، ٹیلی پیتھی۔
'اشراق (ٹیلی پیتھی) کی حقیقت کو آج تک علمائے نفسیات نے تسلیم نہیں کیا۔"      ( ١٩٦٦ء، روزنامہ، جنگ، کراچی، ٣٠، ١٩٣ )
٦ - صفائے باطن کے باعث مکاشفے اور مراقبے کے ذریعے دور ہی سے تعلیم و تعلم۔
'حکمائے اشراق تو کہتے ہیں کہ یہ حقیقت ہے حواس میں صورت کسی شے کی چھپی ہوئی یا کھدی ہوئی نہیں ہوتی۔"      ( ١٩٢٨ء، 'اودھ پنچ' لکھنو، ١٣، ٦:١٢ )
٧ - [ تصوف ]  قلب کا نور، محبت سے منور ہو جانا۔ (مصباح التعرف لارباب التصوف، 36)
  • rising (of the sun)
  • sun-rise
  • morning;  splendour
  • lustre
  • beauty