اشرفی

( اَشْرَفی )
{ اَش + رَفی }
( عربی )

تفصیلات


شرف  اَشْرَف  اَشْرَفی

عربی زبان سے اسم مشتق 'اَشْرف' کے ساتھ فارسی قاعدے کے تحت 'ی' بطور لاحقۂ نسبت لگائ گئ ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٧٣٢ء 'کربل کتھا" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مؤنث - واحد )
جمع   : اَشْرَفِیاں [اَش + رَفِیاں]
جمع غیر ندائی   : اَشْرَفِیوں [اَش + رَفِیوں (و مجہول)]
١ - پرانا سونے کا سکہ(مختلف زمانوں میں مختلف قیمت کا؛ بیسویں صدی کے تقریباً نصف اول میں : قریب قریب پندرہ روپے کے برابر)۔
'وہاں سے ایک اشرفی اور کچھ روپے لے کر آئے۔"      ( ١٩٠٧ء، مقالات حالی، ٢، ٥٦٢ )
٢ - ایک مہلک سانپ کی قسم 'جو ڈیڑھ گز کا ہوتا ہے اور پشت پر سفید داغ جسے کاٹتا ہے اسے پہلے تو بخار اور نیند کا غلبہ ہو جاتا ہے پھر جسم ورم کر آتا ہے اور آخر میں دستوں میں خون آ کر ہفتے عشرے میں مر جاتا ہے۔" (تریاق مسموم، 45)
'اکثر سانپوں کو دیکھنا اور ان کا حال معلوم کرنا باقی رہ گیا صرف ان ستانوے کا حال معلوم ہوا ہے : اگن، جھاڑ، افعی - اشرفی۔"      ( ١٨٧٣ء، تریاق مسموم، ١٨ )
اسم نکرہ ( مذکر - واحد )
١ - گل اشرفی، ایک پھول جو گول زرد اور سنہرہ ہوتا ہے۔
 دامن تھا گل کا پر گہر آبدار سے وہ اشرفی کے پھول کہ اشرف ہزار سے      ( ١٩١٢ء، شمیم، مرثیہ(ق)، ٣ )