صفت ذاتی
١ - ڈوبا ہوا، پانی میں ڈوبا ہوا۔
فرعون کو غرقاب سمجھنے والو فرعون کی اولاد ابھی باقی ہے
( ١٩٧٧ء، سرکشیدہ، ٣٨١ )
٢ - محو، مستغرق، کھویا ہوا، مدہوش۔
"سمر قندو بخارا کو جنکی دھن میں وہ نو عمر غرقاب ہے اس کے صرف خالِ رخسار کا صدقہ بنا کر اسکے سامنے پیش کرتے تھے۔"
( ١٩٣٩ء، مطالعہ حافظ )
٣ - گہرا عمیق (پایاب کی ضد)۔
بحرِ الفت میں قدم سوچ کے رکھنا پروین ہے کنارے ہی پہ غرقاب نہ پایاب نہیں
( ١٩١٣ء، دیوانِ پروین، ٨٣ )
٤ - نشتہ میں چور، نشہ میں دُھت، نشہ میں بت بنا ہوا، جسے: چُلو میں اُلو ، لوٹے میں غرقاب۔ (فرہنگِ آصفیہ)