مطلع

( مَطْلَع )
{ مَط + لَع }
( عربی )

تفصیلات


طلع  مَطْلَع

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٦١١ء کو"کلیات قلی قطب شاہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مذکر - واحد )
جمع   : مَطْلَعے [مَط + لَعے]
جمع غیر ندائی   : مَطْلَعوں [مَط + لَعوں (و مجہول)]
١ - طلوع ہونے کی جگہ، مراد : مشرق، چاند یا سورج نکلنے کی جگہ۔
"سردی اور گرمی میں آفتاب کا مطلع بدلتا ہے۔"      ( ١٩٧٢ء، معارف القرآن، ٨، ٢٤٧ )
٢ - فضا، آسمان (بادل ہونے یا نہ ہونے کی کیفیت)
"جب مطلع ذرا صاف ہوا اور چاند کا کہرا غائب ہو گیا اور روشنیاں کھلی آنکھ سے نظر آنے لگیں۔"      ( ١٩٨٩ء، قصے تیرے فسانے میرے، ٢٧٨ )
٣ - [ شاعری ]  غزل اور قصیدے کے شروع کے بیت یا شعر جس کے دونوں مصرعوں میں قافیہ لازمی ہوتا ہے۔
"جس طرح ایک غزل مطلع سے قطع تک کئی مرتبہ دہرائی جاتی ہے۔"      ( ١٩٩٤ء، افکار، کراچی، اگست، ٤٩ )
٤ - [ عروض ]  پہلے مرصع کا پہلا رکن، صدر۔
"پہلے مصرع کے پہلے رکن کو صدر یا مطلع اور آخری رکن کو عروض کہتے ہیں۔"      ( ١٩٣٦ء، میزان سخن، ٤١ )