تھرتھرانا

( تَھرْتَھرانا )
{ تَھر + تَھرا + نا }
( سنسکرت )

تفصیلات


سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم 'تھرتھر' کے آگے اردو کے قاعدے سے 'انا' بطور علامت مصدر لگانے سے بنا۔ اردو میں بطور فعل استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً سب سے پہلے ١٧٨٢ء کو "دیوانِ محبت" کے قلمی نسخے میں مستعمل ملتا ہے۔

فعل لازم
١ - سردی، خوف، غصے یا گھبراہٹ میں لرزنا، کانپنا؛ ہوا کے جھونکے سے لرزنا۔ (خوف غصے، تکلیف، بخار یا سردی وغیرہ سے) جسم کے اعضا کا ہلنا، کپکپانا، کانپنا، ہلہلانا، تھرانا۔
"ان کی حالت دن بدن ابتر ہو رہی ہے چلنے میں پاتں تھرتھراتے ہیں۔"      ( ١٩٤٧ء، مضامینِ فرحت، ١٣٨:٣ )
٢ - کسی چیز کا ہلنا، ارتعاش پیدا ہونا۔
"زیادہ سائیڈ کلیرنس ہو تو رنگ (Ring) جھری کے اندر تھرتھراتا ہے . کم ہو تو رنگ . جام ہو جاتا ہے۔"      ( ١٩٧٥ء، پٹرول انجن، ١١٧ )