ن

( ن )
{ نُون }
( عربی )

تفصیلات


عربی سے اردو میں داخل ہوا اور اردو حروف تہجی میں بطور حرف صحیح استعمال ہوتا ہے۔ مفرد شکل میں ١٩٤٧ء کو "بنیادی اسالیبِ بیان" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

حرف تہجی ( مذکر - واحد )
١ - اردو حروف تہجی کا سینتالیسواں، فارسی کا انتیسواں، عربی کا پچیسواں اور دیوناگری کا بیسواں حرف، حساب جمل میں اس کے پچاس عدد فرض کیے گئے ہیں، عربی تقسیم کے مطابق یہ شمسی حرف ہے، پراکرت میں یہ حرف 'ل' سے بدل جاتا ہے؛ جیسے : لوٹ، نوٹ، قدیم ہندی اور فارسی میں یہ حرف اپنے اپنے موقع پر کبھی شروع میں کبھی وسط میں اور کبھی آخر میں، ب، پ، ت، ر، ڑ، ک، ل، م، ن، ہ، ی سے بدل جاتا ہے، تسفوی حروف ب، بھ، پ، پھ کے ساتھ کسی کلمے کے وسط میں ملا ہوا آتا ہے تو وہاں ادغام ہو کر میم سے بدل جاتا ہے؛ جیسے : منبر، سنبھل، لنبا، سنبھالنا وغیرہ۔ دیوناگری میں ایسے مقام پر میم ہی لکھا جاتا ہے، بہ اعتبارِ صوت 'ن' کی دو قسمیں ہیں، پہلی نون بالاعلان جس کی آواز رومن (N) کی طرح پیدا ہوتی ہے، اردو تحریر میں یہ نون نقطے کے ساتھ لکھا جاتا ہے؛ جیسے : جان، زمین، کفن، انجمن، بندر وغیرہ میں، دوسری قسم ن بہ اخفا، جس کی آواز رومن میں (N) اور ہندی میں (نہ) سے ظاہر کی جاتی ہے اور یہ ناک میں بولا جاتا ہے یعنی گنگناہٹ پیدا کر دیتا ہے، اس کی تین قسمیں ہیں، خالص انفی؛ جیسے تنبولی، ہنسی وغیرہ، وصلی یا مخلوطی (غنہ)؛ جیسے : سنگ، جنگ، ڈھنگ میں؛ مغنونہ : جیسے : چانول، پھنسی، دھنسی، اوندھا، طمانچہ وغیرہ میں۔
"اغلب یہی ہے کہ اردو اور پنجابی زبانوں میں تانیث کے لیے 'ن' کا لاحقہ براہ راست یونانی بزان ہی سے وارد ہوا یعنی ہندو یونانی عہد میں یہ لاحقہ پنجابی زبان میں . آگے اردو میں ودیعت ہو گیا۔"      ( ١٩٧٢ء، اردو ادب کی قدیم تاریخ، ٣٢٠ )
٢ - وہ نون (ن) جو کسی عبارت یا شعر وغیرہ کو نظری کرتے وقت نشان کے لیے بنا دیا جائے، مسترد یا خارج کرنے کی علامت کے لیے استعمال کیا جانے والا حرف (ن)؛ (ص) کے مقابل۔
 چلّے بھی رد کیے ہوئے مضمون ہو گئے حلقے کہاں کے سب نظری نون ہو گئے      ( ١٨٧٥ء، مونس، مراثی، ٤٨:١ )