تبصرہ

( تَبْصِرَہ )
{ تَب + صِرَہ }
( عربی )

تفصیلات


بصر  تَبْصِرَہ

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے جو اردو میں اپنے اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور اسم ہی استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً سب سے پہلے ١٨٨١ء کو "تہذیب الاخلاق" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مذکر - واحد )
واحد غیر ندائی   : تَبْصِرے [تَب + صِرے]
جمع   : تَبْصِرے [تَب + صِرے]
جمع غیر ندائی   : تَبْصِروں [تَب + صِروں (و مجہول)]
١ - (لفظاً) کسی کو کوئی چیز دکھانا، (مجازاً) کسی بات کے متعلق اظہار رائے، بصیرت کا اظہار۔
"تبصرہ کے معنی عیب و صواب دکھانے کے ہماری زبان میں ہو سکتے ہیں۔"      ( ١٨٨١ء، تہذیب الاخلاق، ١٦٨:١ )
٢ - کسی کتاب یا رسالے وغیرہ کو پڑھ کر اس کی خوبی یا خالی کے بارے میں رائے دینا۔
"عنوان جو آپ نے تحریر فرمایا ہے ٹھیک ہے، تبصرہ کے متعلق میں بھی یہی مشورہ دوں گا کہ میرا مجموعہ شائع ہو لے تو لکھئے۔"      ( ١٩١٩ء، اقبال نامہ، ١٠٧:١ )
٣ - کسی امر یا واقعہ کے بیان میں خوبی اور خامیوں کا ذکر۔
"کرکٹ کے کسی کھیل پر تبصرہ ہو رہا تھا۔"      ( ١٩٠٤ء، شائد کہ بہار آئی، ٢٩ )