پاافتادہ

( پااُفْتادَہ )
{ پا + اُف + تا + دَہ }
( فارسی )

تفصیلات


فارسی سے اردو میں ماخوذ اسم 'پا' کے ساتھ فارسی ہی سے اسم صفت 'افتادہ' ملنے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے اور ١٩٥٨ء کو "مسلمان عورت" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

صفت ذاتی
١ - جو اس طرح پڑا ہو کہ پانو کے نیچے آئے (مجازاً) ناچیز و بےوقعت، رکیک، بالکل سامنے کی چیز جسے تلاش نہ کرنا پڑے۔
"ہر ممکن پہلو سے موضوع بحث پر روشنی ڈالی ہے اور کہیں رکیک و پا افتادہ دلائل کو پیش نہیں کیا۔"      ( ١٩٥٨ء، آزاد، مسلمان عورت، ٥ )