پابرکاب

( پابَرَکاب )
{ پا + بَرَکاب }

تفصیلات


فارسی زبان سے اردو میں ماخوذ 'پا' کے بعد 'ب' بطور حرف جار لگا کر عربی سے اسم جامد 'رکاب' بڑھانے سے مرکب وصفی بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے اور ١٨٧٨ء کو "سخنِ بے مثال" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

صفت ذاتی
١ - سفر پر آمادہ، تیار، مستعد۔
"ایک ہفتہ کی رخصت اتفاقی کی درخواست کر دی تھی آج پابر کاب تھا۔"      ( ١٩٢٤ء، انشائے بشیر، ٣٠١ )
٢ - جو عمر کی آخری منزل میں ہو یا مرنے کے قریب ہو۔
"میں تو یہ چاہتا ہوں کہ جو کچھ گذشتہ اور پابرکاب بزرگوں سے معلوم ہو جائے تو اس کو محفوظ کر دیں۔"    ( ١٩٤٧ء، فرحت، مضامین، ٢٤٨:٦ )
٣ - عارضی، فانی، جلد ختم ہونے والا۔
"پہلے سے اتنے امیدوار بیٹھے ہیں کہ جدید لوگوں کے لیے کچھ ہو ہی نہیں سکتا پھر میں خود پابرکاب بیٹھا ہوا ہوں۔"    ( ١٩٦١ء، عبدالحق، خطوط، ١٤٥ )