تادیباً

( تادِیباً )
{ تا + دی + بَن }
( عربی )

تفصیلات


ءدب  ادب  تادِیباً

عربی اسم 'تادیب' کے ساتھ 'ا' تنوین لگانے سے اردو میں اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور متعلق فعل مستعمل ہے سب سے پہلے ١٨٩٥ء کو "لیکچروں کا مجموعہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

متعلق فعل
١ - تادیب کے لیے، تنبیہ کے طور پر۔
"ابوسفیان نے اوس بن خالد سے قرآن پڑھوانا چاہا تو اوس نے انکار کیا اس پر ابوسفیان نے تادیباً اس کو تازیانے مارے وہ اتفاق سے مر گیا۔"      ( ١٨٩٥ء، لیکچروں کا مجموعہ، ٢٠٥:٢ )