آب ترسی

( آب تَرْسی )
{ آب + تَر + سی }
( فارسی )

تفصیلات


فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'آب' کے بعد فارسی مصدر 'ترسیدن' سے صیغہ امر 'ترس' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقہ کیفیت لگانے سے حاصل 'ترسی' ملا کر مرکب 'آب ترسی' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٩٤٨ء کو "علم الادویہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مؤنث - واحد )
١ - باولے کتے کے کاٹے کی ہڑک، داعا لکلب (جس میں پانی کا خیال آتے ہی مریض کی طبیعت میں سخت تشنج اور ہجان پیدا ہوتا ہے)۔
"بہت سے تشنجی امراض کے تشنجات کو تسکین دینے کے لیے مثلاً . آب ترسی. کے تشنجات کو۔"      ( ١٩٤٨ء، علم الادویہ، ٣٢١:١ )