بادشاہ وقت

( بادْشاہِ وَقْت )
{ باد + شا + ہے + وَقْت }

تفصیلات


فارسی زبان میں اسم 'بادشاہ' کے آخر پر کسرۂ اضافت لگا کر عربی زبان سے ماخوذ اسم 'وقت' لگنے سے 'بادشاہِ وقت' مرکب اضافی بنا۔ اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٨٣ء میں "مرثیۂ یکتا" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مذکر - واحد )
١ - وہ بادشاہ جو زندہ اور برسر حکومت ہو۔
"ہمارے اوپر قوانین بادشاہ وقت کی پابندی ضروری قرار پائی ہے۔"      ( ١٩٢٥ء، قرآن مجید کے فوجداری قانون، ١٧٧ )