پازیبی

( پازیبی )
{ پا + زے + بی }
( فارسی )

تفصیلات


اصلاً فارسی ترکیب ہے۔ فارسی اسم 'پا' کے ساتھ 'زیبیدن' مصدر سے حاصل مصدر 'زیب' میں 'ی' بطور لاحقہ کیفیت کے اضافے سے حاصل 'زیبی' ملانے سے 'پازیبی' مرکب بنا۔ ١٨٤٥ء کو "مرقع پیشہ وراں" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

اسم کیفیت ( مؤنث - واحد )
١ - پانْو کی سجاوٹ۔
"اگر پازیبی کا خیال آجاوے مہر ماہ کی سی خلخال ہر یوسف جمال کے پاؤں میں پہناوے۔"      ( ١٩٤٥ء، مرقع پیشہ وران، ٣٠ )