پابست

( پابَسْت )
{ پا + بَسْت }
( فارسی )

تفصیلات


اصلاً فارسی ترکیب ہے۔ فارسی اسم 'پا' کے ساتھ فارسی مصدر 'بستن' سے صیغہ ماضی مطلق واحد غائب 'بست' ملنے سے مرکب وصفی بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے اور ١٩١٠ء کو "نظمِ آزاد" میں تحریراً ملتا ہے۔

صفت ذاتی
١ - جس کے پانو بندھے ہوئے ہوں، مقید، قیدی؛ پابند۔
 نسخہ سیر خیالی تھا سردست ابھی اور نظر سلسلۂ شوق سے پابست ابھی      ( ١٩١٠ء، آزاد، نظم آزاد، ٧٨ )
٢ - عمارت کو قایم و برقرار رکھنے والا (بنیاد)؛ مضبوط، مستحکم۔