تالہ

( تَاَلُّہ )
{ تَاَل + لُہ }
( عربی )

تفصیلات


الہ  تَاَلُّہ

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم اردو میں من و عن استعمال ہوتا ہے ١٨٦٩ء کو "غالب کے خطوط" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم معرفہ ( مذکر - واحد )
١ - خدادانی، علم الہیات، حق پرستی۔
"تیسرا طبقہ حکیم الہی تالہ (خدادانی) اور بحث دونوں میں توغل کرتے ہیں۔"      ( ١٩٢٥ء، حکمتہ الاشراق، ١١۔ )
٢ - پرستش، عبادت، مذہبی فرائض کے لیے وقف ہو جانے کی حالت۔
"اکثر اوقات غلبہ حالات میں (جو عبارت ہے شدت مشاہدہ کی حالت سے اور استیلا تالہ سے) جو معانی دل پر منکشف ہوتے تھے وہ رباعیوں کی صورت میں منظوم ہو جاتے تھے۔"      ( ١٩٢٣ء، "مقالات شروانی" ٣٤٢۔ )