تاگڑی

( تاگْڑی )
{ تاگ + ڑی }
( سنسکرت )

تفصیلات


سنسکرت الاصل لفظ 'تاگ' کے ساتھ 'ڑی' بطور لاحقۂ تصغیر لگانے سے 'تاگڑی' بنا۔ اردو میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٧٨ء کو "رسوم ہند" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

اسم تصغیر ( مؤنث - واحد )
جنسِ مخالف   : تاگْڑا [تاگ + ڑا]
جمع   : تاگْڑِیاں [تاگ + ڑِیاں]
١ - تاگوں وغیرہ کا بٹا ہوا ڈورا جو ہندو یا گنوار یا ان کے بچے لنگوٹی لٹکانے کے لیے ناف سے نیچے باندھتے ہیں۔
"ایک میلی لنگوٹی وہ بھی پرانی اور چھوٹی بال کی تاگڑی میں اوڑی، اسباب دنیا سے یہ جھونپڑی میں اللہ کا نام۔"      ( ١٩٢٨ء، باتوں کی باتیں، ١٥ )
٢ - ایک زنجیر کی قسم کا زیور جسے ہندو امیر اور ان کی عورتیں زیب کمر کرتی ہیں۔
"بڑے بڑے سیٹھ موٹے موٹے ہار گلے میں ڈالے سونے کی تاگڑیاں باندھے رتھوں میں سوار۔"      ( ١٩٤٤ء، دلی کی چند عجیب ہستیاں، ١٨٤ )
  • the thread which hindus fasten round the waist