تاڑ باز

( تاڑ باز )
{ تاڑ + باز }

تفصیلات


سنسکرت سے ماخوذ اسم 'تاڑ' کے ساتھ فارسی مصدر 'بازیدن' سے مشتق فعل امر 'باز' بطور لاحقۂ صفت لگنے سے مرکب توصیفی بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے ١٩٣٠ء کو "کلیات نظیر" میں مستعمل ملتا ہے۔

صفت ذاتی
١ - زود فہم، سمجھدار۔
 جو تاڑ باز تھے سو پکارے یہ جا بجا یا رویہ جائے غیر ہے ٹک دیکھیو ذرا      ( ١٩٣٠ء، "کلیات نظیر" ١٤٠ )
٢ - عورتوں کو تاکنے والا (جامع اللغات)