پایاب

( پایاب )
{ پا + یاب }
( فارسی )

تفصیلات


اصلاً فارسی ترکیب ہے۔ فارسی اسم 'پا' کے ساتھ فارسی مصدر 'یافتن' سے لاحقہ فاعلی 'یاب' بڑھانے سے مرکب 'پایاب' بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے اور ١٨٤٦ء کو "کلیاتِ آتش" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

صفت ذاتی
١ - اتھلا، چھچلا، کم گہرا، قابل عبور (بغیر کشتی وغیرہ کے) اتارو پانی، تھاہ۔
"کچھ لوگ جس طرف سے دریا پایاب تھا شہر میں داخل ہو گئے۔"      ( ١٩٣٠ء، غدر کا نتیجہ، ١٠ )
  • اُتْھلا
  • کم گَہْرا
  • سَطْی