بچھڑا

( بِچھْڑا )
{ بِچھ + ڑا }
( سنسکرت )

تفصیلات


بِچھْڑنا  بِچھْڑا

سنسکرت زبان سے ماخوذ اردو مصدر 'بچھڑنا' کا فعل ماضی 'بچھڑا' اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٠٩ء کو "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔

صفت ذاتی ( مذکر - واحد )
جنسِ مخالف   : بِچھْڑی [بِچھ + ڑی]
واحد غیر ندائی   : بِچھْڑے [بِچھ + ڑے]
جمع   : بِچھْڑے [بِچھ + ڑے]
جمع غیر ندائی   : بِچھْڑوں [بِچھ + ڑوں (و مجہول)]
١ - مہجور، ہجرزدہ، جدائی کا مارا ہوا۔
 جبکہ مقصد ہو گؤماتا کے بچھڑوں کا ملاپ دیس کے بچھڑے ہوؤں کو کب ملا سکتے ہیں آپ      ( ١٩٣٨ء، چمنستان، ١٩٠ )