پاپاکال

( پاپاکال )
{ پا + پا + کال }
( سنسکرت )

تفصیلات


سنسکرت سے اردو میں ماخوذ ترکیب ہے۔ سنسکرت سے ماخوذ اسم 'پاپ' کے بعد سنسکرت ہی سے ماخوذ اسم کیفیت 'کال' سے پہلے 'ا' بطور سابقہ نفی کے اضافہ سے حاصل 'اکال' ملانے سے مرکب 'پاپا کال' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور ١٩١٤ء کو "فسانۂ دلفریب" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

اسم کیفیت ( مذکر - واحد )
١ - [ نجوم ]  وہ زمانہ جب عطارد کی گردش تیرھویں سترھویں یا اٹھارھویں منزل میں ہو؛ مصیبت کا زمانہ۔
"تمہاری جان کی دشمن نہیں ہوں جو ایسے پاپاکال کے موسم میں تم کو جانے کی صلاح دوں۔"      ( ١٩١٤ء، فسانۂ دلفریب، ٥١ )