بادیہ نشیں

( بادِیَہ نَشِیں )
{ با + دِیَہ + نَشِیں }

تفصیلات


عربی زبان سے ماخوذ اسم بادیہ کے ساتھ فارسی مصدر نشتن سے مشتق صیغہ امر 'نشیں' بطور لاحقۂ فاعلی لگنے سے 'بادیہ نشیں' مرکب بنا۔ اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ ١٨٧٢ء میں "تہذیب الاخلاق" میں مستعمل ملتا ہے۔

صفت ذاتی ( مذکر - واحد )
١ - صحرا میں بود و باش رکھنے والا، بدو، صحرائی، دیہاتی، شہری کی ضد (بیشتر عرب کے لیے مستعمل)۔
"اس زمانے کے یہود ایسے ہی جاہل تھے جیسے بادیہ نشیں عرب۔"      ( ١٩٠٤ء، مقالات شبلی، ٣١:١ )