بارگاہ

( بارْگاہ )
{ بار + گاہ }
( فارسی )

تفصیلات


فارسی زبان میں اسم 'بار' کے ساتھ فارسی اسم 'گاہ' بطور لاحقۂ ظرف لگنے سے 'بارگاہ' مرکب بنا۔ اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٥٦٤ء میں "حسن شوقی" کے دیوان میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم ظرف ( مؤنث - واحد )
١ - دربار، ایوان، محل، گھر؛ پیشی، اجلاس۔
 وہ کیا ملا کہ دونوں جہاں مل گئے ہمیں اب اس کی بارگاہ میں ہم کیا دعا کریں      ( ١٩٤٦ء، طیور آوارہ، ٧٩ )