بارہ دری

( بارَہ دَری )
{ با + رَہ + دَری }

تفصیلات


سنسکرت سے ماخوذ اسم صفت 'بارہ' کے ساتھ فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'در' لگنے سے 'بارہ در' مرکب بنا اور پھر 'ی' بطور لاحقۂ نسبتی لگنے سے 'بارہ دری' مرکب توصیفی بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨١٦ میں "دیوان ناسخ" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مؤنث - واحد )
جمع   : بارَہ دَرْیاں [با + رَہ + دَر + یاں]
جمع غیر ندائی   : بارَہ دَرْیوں [با + رَہ + دَر + یوں (و مجہول)]
١ - کم و بیش بارہ دروازوں کا ہوادار مکان جو اکثر باغ میں یا دریا کے کنارے پر بنا لیتے ہیں؛ برآمدہ جو بارہ دروں یا دروازوں کا ہو۔
"بیژن اس کی بارہ دری میں گیا۔"      ( ١٩٢٦ء، شرر، مضامین، ٣ : ٣٠٢ )
  • lit. "Having twelve doors";  a summerhouse (generally in a garden)