اتصاف

( اِتِّصاف )
{ اِت + تِصاف }
( عربی )

تفصیلات


وصف  صِفَت  اِتِّصاف

عربی زبان میں باب "افتعال المعتل واوی" سے مصدر ہے۔ اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے "تحفۃ الاحباب" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم حاصل مصدر ( مذکر - واحد )
١ - موصوف میں صفت کی موجودگی، (کسی میں) کوئی صفت پائی جانا، موصوف ہونا۔
"ضعیف کا ضعف کے ساتھ اتصاف ذاتی نہیں۔"      ( ١٩٥٩ء، تفسیر ایوبی، ٥٠ )
٢ - [ تصوف ]  ذات اور صفات حق سے متصف ہونا، کیونکہ حقیقتاً ذات اور صفات حق ہی کے لیے ہیں اور بندے کی ذات اور صفات محض اعتباری اور مجازی ہیں اور اس کا وجود اور صفات حق کے وجود اور صفات کے ظل ہیں۔ (مصباح التعرف لارباب التصوف، 24)
  • Description;  praise;  qualification;  excellence