کڑکڑاہٹ

( کَڑْکَڑاہَٹ )
{ کَڑ + کَڑا + ہَٹ }

تفصیلات


کَڑکَڑ  کَڑْکَڑاہَٹ

حکایت الصوت سے ماخوذ اسم 'کڑ کڑ' کے بعد 'انا' بطور لاحقہ مصدر و تعدیہ لگا کر بنائے گئے۔ مصدر 'کڑکڑانا' کا حاصل مصدر ہے جو علامتِ مصدر 'نا' ہٹا کر اس کی جگہ علامتِ حاصل مصدر ہٹ لگانے سے بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے اور تحریراً سب سے پہلے ١٨٩٧ء کو "چندر اولی" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم صوت ( مؤنث - واحد )
جمع   : کَڑکَڑاہَٹیں [کَڑ + کَڑا + ہَٹیں (ی مجہول)]
جمع غیر ندائی   : کَڑکَڑاہَٹوں [کَڑ + کَڑا + ہَٹوں (و مجہول)]
١ - کڑکڑانا، کڑ کڑ کی آواز پیدا ہونا۔
"خشک گھاس میں ان کے بھاگنے کی کڑکڑاہٹ کی وجہ سے ہر مرتبہ شیرنی ہی کا گماں ہوتا تھا۔"      ( ١٩٥٨ء، عمرِ رفتہ، ٣٤٨ )