ابدالآباد

( اَبَدُالْآباد )
{ اَبَدُل (الف غیر ملفوظ) + آ + باد }
( عربی )

تفصیلات


عربی زبان کے لفظ 'ابد' کے ساتھ اس کی جمع 'آباد' لگائی گئی ہے۔ ان کو 'ال' کے ذریعے ملایا گیا ہے۔ مرکب اضافی ہے۔ سب سے پہلے ١٦٣٥ء کو "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم کیفیت ( مذکر - واحد )
١ - دوام، ہمیشگی، لامتناہی مدت۔
"عالم سیارگاں ایک لحظے کے برابر ہے اور ابد الآباد کے مقابلے میں ہیچ۔"      ( ١٩١٠ء، مقدمہ معرکۂ مذہب و سائنس، عبدالحق، ٣٦ )
٢ - قیامت، آخرت
"سال گزشتہ کی ہولناک خونریزی - ابدالآباد تک یاد رہے گی۔"      ( ١٩١٩ء، غدر دہلی کے افسانے، ١٧٢:٤ )
متعلق فعل
١ - ہمیشہ ہمیشہ، ہمیشہ کے لیے۔
"قیامت اس دنیا پر اثر ڈالے گی لیکن لوح محفوظ ابدالآباد محفوظ رہے گی۔"      ( ١٩٢٥ء، قرآن مجید کے فوجداری قوانین، عبدالرحیم، ١٣ )