ابرسیاہ

( اَبْرِسِیاہ )
{ اَب + رے + سِیاہ }
( فارسی )

تفصیلات


فارسی زبان سے مرکب توصیفی ہے۔ 'ابر' کے ساتھ 'سیاہ' فارسی زبان سے اسم صفت لگایا گیا ہے۔ اردو میں ١٦٥٧ء کو "گلش عشق" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مذکر - واحد )
١ - گہرا بادل، ابر تیرہ، کالی گھٹا۔
"ابر سیاہ کی مہین پھوار اس سانس کے استقبال کو دوڑی۔"      ( ١٩٢٠ء، قلب حزیں، راشدالخیری، ٦٥ )
٢ - وہ کھوٹ جو چاندی کو گلاتے وقت کالے دھبے یا جالے کی شکل میں اوپر آ جائے۔
"اس گلی ہوئی چاندی میں جب تک کہ ابر سیاہ ظاہر ہوویں سرب کے ٹکڑے ڈالتے رہیں۔"      ( ١٨٥٤ء، مجمع الفنون (ترجمہ)، ١٩٩ )