ابر کہسار

( اَبْرِ کُہْسار )
{ اَب + رے + کُہ (ضمہ مجہول) + سار }
( فارسی )

تفصیلات


فارسی زبان سے مرکب اضافی ہے۔ ابر کے ساتھ اسم جامد 'کہسار' لگایا گیا ہے۔ تقریباً ١٨٢٥ء کو منتظر کے ہاں بحوالۂ "امیراللغات" مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مذکر - واحد )
١ - وہ گھٹا جو پہاڑوں کی چوٹیوں پر چھائے یا ان کی طرف سے اٹھ کر آئے۔
 ہے بلندی سے فلک بوس نشیمن میرا ابرکہسار ہوں گلپاش ہے دامن میرا      ( ١٩٠٥ء، بانگ درا )