طیران پذیر

( طَیْران پَذِیر )
{ طَے (یائے لین) + ران + پَذِیر }

تفصیلات


عربی زبان سے 'طیران' کے بعد فارسی مصدر 'پذیرفتن' سے صیغہ فعل امر 'پذیر' بطور لاحقہ فاعلی لگانے سے مرکب بنا۔ اردو زبان میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٤١ء کو "فلزیات" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

صفت ذاتی
١ - [ کیمیا ]  بخار بن کر اڑ جانے والا، کوئی باری شے جو جلد اڑ جانے والی ہو جیسے بعض تیل یا دوسرے مرکبات۔
"عطر ایک طیران پذیر مائع ہے۔"      ( ١٩٨٤ء، مبادی نباتیات )