ابلق چشم

( اَبْلَقِ چَشْم )
{ اَب + لَقے + چَشْم }

تفصیلات


مرکب اضافی ہے 'اَبْلَق' کے ساتھ فارسی زبان کے لفظ 'چشم' کو ملایا گیا ہے۔ اردو میں ١٧٨٠ء کو سودا کے کلیات میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مذکر - واحد )
١ - آنکھ جو سیاہی، سفیدی نیز گردش کی خصوصیات میں چتکبرے گھوڑے سے مشابہ ہے، آنکھ۔
 ابلق چشم صنم کس ناز سے گردش میں ہے خوب کاوے ہوتے ہیں رہوار آنکھیں ہو گئیں      ( ١٨٥٣ء، دیوان وزیر، دفتر فصاحت، ٣٦ )