ابر نو بہار

( اَبْرِ نَو بَہار )
{ اَب + رے + نَو (و لین) + بَہار }
( فارسی )

تفصیلات


فارسی زبان سے مرکب اضافی ہے۔ 'ابر نوبہاری' مرکب توصیفی بنتا ہے۔ 'ابر' کے ساتھ 'نو' اور 'بہار' سے مرکب توصیفی لگایا گیا ہے۔ متغیر لفظ میں اس کے ساتھ 'ی' نسبتی لگائی گئی ہے۔ اردو میں ١٩٢٤ء کو "فسانۂ عجائب" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم معرفہ ( مذکر - واحد )
١ - ربیع کے آغاز کا بادل جو مارچ یا اپریل کے لگ بھگ آتا ہے اور خوب برستا ہے۔ ابر بہار۔
"رات دن مانند ابر نو بہار روتا ہوں۔"      ( ١٩٤٠ء، آغا شاعر، لیلیٰ دمشق، ٢٣ )