صاحب حال

( صاحِبِ حال )
{ صا + حِبے + حال }
( عربی )

تفصیلات


عربی زبان سے مشتق اسم 'صاحب' کے ساتھ کسرہ اضافت لگا کر عربی اسم لگانے سے مرکب اضافی بنا۔ اردو زبان میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٣٥ء کو "سب رس" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

صفت ذاتی
١ - [ تصوف ]  جس پر معرفت الٰہی میں کیفیات قلب (حزن و خوف و بسط و قبض و ذوق و شوق) وارد ہوں، صوفی، عارف باللہ، بزرگ۔
"اس زمانے کے شاعروں میں درد البتہ صاحب حال تھے۔"      ( ١٩٨٧ء، غالب، فن اور شخصیت، ٥٧ )
٢ - لائق، قابل، واقف، مہذب، شائستہ، (نحو) وہ شخص جس کی طرف کسی فقرے یا جملے کا اشارہ ہو۔ (جامع اللغات)۔