ابھی ابھی

( اَبھی اَبھی )
{ اَبھی + اَبھی }
( سنسکرت )

تفصیلات


سنسکرت زبان سے مرکب ہے۔ لفظ 'ابھی' کی تکرار ہے زور پیدا کرنے کے لیے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٨٨٥ء کو "مثنوی عالم" میں مستعمل ملتا ہے۔

متعلق فعل
١ - ذرا پہلے، دم بھر پہلے۔
 توڑا ہے دم ابھی ابھی بیمار ہجر نے آئے مگر حضور کو تاخیر ہو گئی
٢ - فوراً، اسی وقت، دم بھر میں
"میں ابھی اپنے فرشتۂ قدرت کو جو حکم دوں تو وہ ابھی ابھی تم سب کو کھا جائے۔"      ( ١٩٠٣ء، دفتر آفتاب شجاعت۔ )