آہ نیم شب

( آہِ نِیم شب )
{ آ + ہے + نِیم + شَب }
( فارسی )

تفصیلات


فارسی زبان میں اسم 'آہ' کے ساتھ کسرہ اضافت لگانے کے بعد فارسی صفت اور اسم پر مشتمل ترکیب 'نیم شب' لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٢٦ء میں "دیوان گویا" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( واحد )
١ - وہ فریاد جو (بارگاہ ایزدی میں) آدھی رات کے وقت کی جائے (جو رات کے سناٹے میں رجوع قلب ہونے کی وجہ سے جلد یاب قبول تک پہنچتی ہے)۔
 فلک کے پار ہوئی اپنی آہ نیم شب ہماری آہ سے صیاد ہو گیا نخچیر      ( دیوان گویا، ١٨٢٦ء، ١١ )