بازو بازو

( بازُو بازُو )
{ با + زُو + با + زُو }
( فارسی )

تفصیلات


فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'بازو' کی تکرار سے اردو میں 'بازو بازو' بنتا ہے اور بطور متعلق فعل مستعمل ہے۔ ١٩٢٦ء میں "ایورینٹل کالج میگزین" میں مستعمل ملتا ہے۔

متعلق فعل
١ - کنارے کنارے۔
"کس موقع پر اس کو سڑک کے بازو بازو چلنے دینا اور کب اس کو ٹھہرا لینا ضرور ہو گا۔"      ( ١٩٢٦ء، اورینٹل کالج میگزین، ٤٩:٢:٢ )
٢ - برابر برابر، پہلو بہ پہلو۔
"ڈوکڑیاں بازو بازو رکھی گئی ہیں اور ایک پانی کی ٹانکی کو سہارتی ہیں۔"      ( ١٩٤١ء، تعمیروں کا نظریہ اور تجویز، ٨٢٠:٢ )