صحبت داری

( صُحْبَت داری )
{ صُح + بَت + دا + ری }

تفصیلات


عربی زبان سے مشتق اسم 'صحبت' کے بعد فارسی مصدر 'داشتن' کے صیغہ امر 'دار' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقہ کیفیت لگانے سے مرکب بنا۔ اردو زبان میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٠١ء کو "مادھونل اور کام کندلا" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

اسم کیفیت ( مؤنث - واحد )
١ - اختلاط، مصاحبت، مل بیٹھنا، راہ و رسم بڑھانا۔
"باتیں صحبت داری کی نہیں آتیں نہ یہ ڈھب آتا ہے کہ جس سے مرد فریفتہ و گرویدہ ہووے۔"      ( ١٨٠١ء، مادھونل اور کام کندلا، ٣٩ )
٢ - جماع
"جنات ان لونڈیوں کو لے گئے اور ان سے صحبت داری کی۔"      ( ١٨٧٧ء، عجائب المخلوقات (ترجمہ)، ١٧٣ )
  • Keeping company (with)
  • associating;  acquaintance;  sexual intercourse
  • coition.