زنانہ بھیس

( زَنانَہ بھیس )
{ زَنا + نَہ + بھیس (ی مجہول) }

تفصیلات


فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'زنانہ' کے ساتھ سنسکرت اسم 'بھیس' لگانے سے مرکب 'زنانہ بھیس' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٣٨ء کو "گلزار نسیم" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مذکر - واحد )
١ - کسی مرد کا عورت کے لباس میں ہونا تاکہ کوئی اسے مرد نہ سمجھ سکے، عورتوں کی وضع اختیار کرنا۔
 واقف تھی پری کے دیس سے وہ لے پہونچی زنانے بھیس سے وہ      ( ١٨٣٨ء، گلزار نسیم، ٤٥ )