طاقہ

( طاقَہ )
{ طا + قَہ }
( عربی )

تفصیلات


عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٨٥٤ء کو "دیوانِ ذوق" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مذکر - واحد )
واحد غیر ندائی   : طاقے [طا + قے]
جمع   : طاقے [طا + قے]
جمع غیر ندائی   : طاقوں [طا + قوں (و مجہول)]
١ - اونی یا ریشمی کپڑے کا تھان۔
"چاندنی پر طاقہ بچھا کر بیھٹی ہوں تو اب جا کے پیچ کی کلی کاٹ ہی رہی تھی۔"      ( ١٩٥٤ء، اپنی موج میں، ١١٣ )
٢ - کپڑے کے تھان اور ان کی تعداد ظاہر کرنے کے لیے مستعمل۔
"ایک طاقہ شال کشمیری، ایک آئینہ قد آدم۔"      ( ١٩٤٤ء، ایرانی افسانے، ١١١ )
٣ - پگڑی، صافا (جو عموماً باریک تھان کا ہوتا ہے)۔
"وہ تیغ زن اور خونریز لوگ تھے، اسی وقت سر منڈا اپنے مغولی طاقے پہن، سرکشی کا نشان باندھ الگ ہو گئے۔"      ( ١٨٨٣ء، دربار اکبری، ٧٨٩ )
  • a single piece;  a piece (of woollen cloth)