باغ خلد

( باغِ خُلْد )
{ با + غے + خُلْد }

تفصیلات


فارسی اسم 'باغ' کے آخر پر کسرۂ اضافت لگا کر عربی زبان سے ماخوذ اسم 'خلا' لگانے سے مرکب اضافی 'باغ خلد' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٥٤ء میں "غنچۂ آرزو" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم معرفہ ( مذکر - واحد )
١ - ہمیشہ رہنے والا باغ، جنت، بہشت۔
 آدم سے باغ خلد چھٹا ہم سے کوئے یار وہ ابتدائے رنج ہے یہ انتہائے رنج      ( ١٨٥٤ء، غنچۂ آرزو، ٤٨ )