اٹھتی جوانی

( اُٹْھتی جَوانی )
{ اُٹھ + تی + جَوا + نی }

تفصیلات


مرکب توصیفی ہے۔ 'اُٹھْنا' مصدر سے حالیہ ناتمام 'اُٹھْتا' کی تانیث 'اُٹھتی' کے ساتھ فارسی زبان کے اسم صفت 'جَوان' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگائی گئی ہے۔ اردو میں ١٨١٨ء کو انشا کے کلیات میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم کیفیت ( مؤنث - واحد )
١ - چڑھتا شباب، آغاز جوانی، نوجوانی۔
"میرن صاحب کا لڑکپن اور اٹھتی جوانی اسی میں بسر ہوئی۔"      ( ١٩٣٥ء، چند ہم عصر، ٢٠٩ )